ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بی جے پی لیڈر سنگیت سوم کا متنازعہ بیان، یوپی میں بی جے پی کو ہرانا پاکستان بنانے جیسا

بی جے پی لیڈر سنگیت سوم کا متنازعہ بیان، یوپی میں بی جے پی کو ہرانا پاکستان بنانے جیسا

Fri, 19 Aug 2016 20:57:25    S.O. News Service

لکھنؤ، 19؍اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)پاکستان کو لے کر لیڈروں میں جملے بازی کا ماحول ہے۔میرٹھ کی ایک ریلی میں بی جے پی کے متنازعہ لیڈر اور ممبر اسمبلی سنگیت سوم نے کہا کہ یوپی کا اگلا الیکشن ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کی طرح ہے۔اس میں بی جے پی کو ہرانا یہاں پاکستان بنانے کے برابر ہے۔وہیں غیر بھاجپائی پارٹیوں کی طرف سے بی جے پی لیڈر کے اس بیان پر سخت رد عمل کا اظہارکیا گیا ہے جبکہ بی جے پی کا کہنا ہے کہ وہ اس بیان کا مطالعہ کررہی ہے۔شاید سنگیت سوم کو یہ لگتا ہے کہ یوپی اسمبلی انتخابات میں اگر بی جے پی جیتی تو ہندوستان جیت جائے گا۔ لیکن اگر غیر بی جے پی پارٹی جیتی تو یہ جیت پاکستان کی ہوگی۔سنگیت سوم نے کہا کہ یہاں جنگ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہے، یہ دھیان رکھیئے ۔ایک طرف پاکستان ہے، تو دوسری طرف ہندوستان ہے۔آپ کو کیا کرنا ہے یہ سوچ لیں ، کیا کرنا ہے؟ ایک طرفہ کر لومعاملہ ۔سنگیت سوم میرٹھ کی سردھنا سیٹ سے ایم ایل اے ہیں، مظفرنگر فسادات میں بھی ان کا نام آیا ہے۔وہ مانتے ہیں کہ اگر وہ ہار گئے اور ان کی جگہ بی ایس پی کے عمران یعقوب جیت گئے تو بھی یہاں پاکستان بن جائے گا۔سنگیت سوم نے کہا کہ بی جے پی ایک طرفہ ہے، اگر کوئی تھوڑا بہت الیکشن میں رہے گا تو بی ایس پی کا امیدوار رہے گا، یہ حقیقت ہے یا نہیں؟ ایس پی والے کہہ رہے ہیں کہ ہم تو ہار ہی گئے، ہمیں تو اس ممبر اسمبلی کو ہرانا ہے،ممبر اسمبلی کو شکست دے کر کیا پاکستان بنانا ہے، مجھے بتا دو۔سنگیت سوم کے اس بیان کو لے کر غیر بھاجپائی پارٹیوں نے سخت رد عمل کااظہار کیا ہے۔یوپی حکومت میں وزیر مملکت نوید صدیقی نے کہا کہ جس طرح کی وہ بات کر رہے ہیں ملک کو تقسیم کرنے کی بات کر رہے ہیں،وہ کہیں نہ کہیں سے ہندوستان پاکستان کامسئلہ لے کر آ رہے ہیں، پاکستان کس کو کہہ رہے ہیں اس ملک کے اندر، وہ پاکستان ایک مخصوص قوم کو کہہ رہے ہیں۔یوپی بی جے پی کے صدر کیشو پرساد موریہ نے کہا کہ یہ بی جے پی نہیں کہہ رہی ہے اور نہ ہم اس بات کی حمایت کرتے ہیں، لیکن ہم اس بیان کا جائزہ لیں گے۔اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ لیں گے۔


Share: